 |
| وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا {١} |
1. جورڑوں میں گھس کر نکالنے والوں کی قسم ہے |
| وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا {٢} |
2. اور بند کھولنے والوں کی |
| وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا {٣} |
3. اورتیزی سے تیرنے والوں کی |
| فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا {٤} |
4. پھر دوڑ کر آگے بڑھ جانے والوں کی |
| فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا {٥} |
5. پھر ہر امر کی تدبیر کرنے والوں کی |
| يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ {٦} |
6. جس دن کانپنے والی کانپے گی |
| تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ {٧} |
7. اس کے پیچھے آنے والی پیچھے آئے گی |
| قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ {٨} |
8. کئی دل اس دن دھڑک رہے ہوں گے |
| أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ {٩} |
9. ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی |
| يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ {١٠} |
10. وہ کہتے ہیں کیا ہم پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے |
| أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَخِرَةً {١١} |
11. کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے |
| قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ {١٢} |
12. کہتے ہیں کہ یہ تو اس وقت خسارہ کا لوٹنا ہوگا |
| فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ {١٣} |
13. پھر وہ واقعہ صرف ایک ہی ہیبت ناک آواز ہے |
| فَإِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ {١٤} |
14. پس وہ اسی وقت میدان میں آ موجود ہوں گے |
| هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ {١٥} |
15. کیا آپ کو موسیٰ کا حال معلوم ہوا ہے |
| إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى {١٦} |
16. جب کہ مقدس وادی طویٰ میں اس کے رب نے اسےپکارا |
| اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ {١٧} |
17. فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے |
| فَقُلْ هَلْ لَكَ إِلَىٰ أَنْ تَزَكَّىٰ {١٨} |
18. پس کہو کیا تیری خواہش ہے کہ تو پاک ہو |
| وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ {١٩} |
19. اور میں تجھے تیرے رب کی طرف راہ بتاؤں کہ تو ڈرے |
| فَأَرَاهُ الْآيَةَ الْكُبْرَىٰ {٢٠} |
20. پس اس نے اس کو بڑی نشانی دکھائی |
| فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ {٢١} |
21. تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی |
| ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ {٢٢} |
22. پھر کوشش کرتا ہوا واپس لوٹا |
| فَحَشَرَ فَنَادَىٰ {٢٣} |
23. پھر اس نے سب کو جمع کیا پھر پکارا |
| فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ {٢٤} |
24. پھر کہا کہ میں تمہارا سب سے برتر رب ہوں |
| فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ {٢٥} |
25. پھر الله نے اس کو آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا |
| إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِمَنْ يَخْشَىٰ {٢٦} |
26. بے شک اس میں اس کے لیے عبرت ہے جو ڈرتا ہے |
| أَأَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا {٢٧} |
27. کیا تمہارا بنانا بڑی بات ہے یا آسمان کا جس کو ہم نے بنایا ہے |
| رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا {٢٨} |
28. ا سکی چھت بلند کی پھر اس کو سنوارا |
| وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا {٢٩} |
29. اور اس کی رات اندھیری کی اور اس کے دن کو ظاہر کیا |
| وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا {٣٠} |
30. اور اس کے بعد زمین کو بچھا دیا |
| أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا {٣١} |
31. اس سے اس کا پانی اور اس کا چارا نکالا |
| وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا {٣٢} |
32. او رپہاڑوں کو خوب جما دیا |
| مَتَاعًا لَكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ {٣٣} |
33. تمہارے لیے اور تمہارے چار پایوں کے لیے سامان حیات ہے |
| فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ {٣٤} |
34. پس جب وہ بڑا حادثہ آئے گا |
| يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْإِنْسَانُ مَا سَعَىٰ {٣٥} |
35. جس دن انسان اپنے کیے کو یاد کرے گا |
| وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِمَنْ يَرَىٰ {٣٦} |
36. اور ہر دیکھنے والے کے لیے دوزخ سامنے لائی جائے گی |
| فَأَمَّا مَنْ طَغَىٰ {٣٧} |
37. سو جس نے سرکشی کی |
| وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا {٣٨} |
38. اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی |
| فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ {٣٩} |
39. سو بے شک اس کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے |
| وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ {٤٠} |
40. اور لیکن جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتارہا اور اس نے اپنے نفس کو بری خواہش سے روکا |
| فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ {٤١} |
41. سو بے شک اس کا ٹھکانا بہشت ہی ہے |
| يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا {٤٢} |
42. آپ سے قیامت کی بابت پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہوگا |
| فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا {٤٣} |
43. آپ کو اس کےذکر سے کیا واسطہ |
| إِلَىٰ رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا {٤٤} |
44. اس کے علم کی انتہا آپ کے رب ہی کی طرف ہے |
| إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَخْشَاهَا {٤٥} |
45. بے شک آپ تو صرف اس کو ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہے |
| كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا {٤٦} |
46. جس دن اسے دیکھ لیں گے (تو یہی سمجھیں گے کہ دنیا میں) گویا ہم ایک شام یا اس کی صبح تک ٹھیرے تھے |
 |